45

مطالبات منوانے کے لئے طلباء کی پہیہ جام ہڑتال

آج طلباء ایکشن کمیٹی عباس پور نے کالج بس کے حصول کے لیے عباس پور پل پہ مکمل پہہ جام کر کے دھرنا دیا ۔دھرنے میں طلبہ کے علاوہ سول سوسائٹی کی بڑی تعداد موجود تھی۔
یاد رہے انتظامیہ نے طلبہ سے جو وقت لیا تھا وہ آج پورا ہوگیا لیکن ان کے مطالبہ کو سنجیدہ نہیں کیا گیا۔ طلبا سے مزاکرات کرنے کالج انتطامیہ ۔عباس پور انتظامیہ آے ڈی سی ایس ڈی ایم ایس ایچ او اور تحصیل دار عباس پور پہنچ گے۔
طلبا کا موقف تھا کہ ہم اتنظامیہ سے ایک بار مذاکرات کر چکے ہیں کالج بس فراہم کرنے سیاسی نمائندے کا کام ہے وزیر حکومت یہاں آ کر مذاکرات کرنے جبکہ دوسری طرف وزیر حکومت نے آنے سے انکار کر دیا اور کہا دفتر میں آ کر بات کریں ۔
جس پہ طلبا نے واضح پیغام دیا کہ جب تک وزیر حکومت آ کر ہم سے تحریری معاہدہ نہیں کرتے ہمارا احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عباس پور سے پچپن ملین دوسری جگہ منتقل ہو گے کیا ہماری بس کا معاملہ وزیر حکومت کو اہم نہیں لگتا؟
طلبا نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی لیکن انتظامیہ کا رویہ بھت اچھا ہے۔
کل سے دوباری کالج ٹائم میں پہیہ جام رہے گا جب تک ایشوز حل نہیں ہوتے۔
یوتھ الائنس کی جانب سے طلبہ کے دھرنے میں ترجمان عمران جہانگیر ۔زکریا آفندی ۔شاہجہان ارشد ۔امجد ماگرے۔بلال لطیف ۔عمران ماگرے اور زبیر الحق صاحب نے نمائندگی کی۔
یوتھ الائنس طلبہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے اگر مطالبہ جلد نہ پورا کیا گیا تو احتجاجی دھرنوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے جس کا دائرہ تحصیل سے نکل کر ضلعے اور کشمیر کی سطح تک بڑھایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں