108

مائدہ شفیق کا ناول پاکباز – تبصرہ نگار : ظہیر احمد مغل

کشمیر میں پونچھ کی زرخیز زمین کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کرشن چندر جنہیں منجھا ہوا افسانہ نگار اور ناول نگار مانا جاتا ہے ، نے پونچھ سے میٹرک پاس کی۔ اور ان کی زندگی کا اہم حصہ کشمیر ، بالخصوص پونچھ میں گزرا۔
 پونچھ سے بے شمار ادباء نے اردو ادب کی خدمت کی۔ موجودہ دور میں بھی پونچھ سیکٹر سے بہترین ادب تخلیق ہور ہا ہے ۔ بے شمار شعرا اور نثر نگار منظر عام پر آ رہے ہیں ۔
 حال ہی میں عباس پور سے تعلق رکھنے والی مائدہ شفیق کا ناول ”پاکباز” منظر عام پر آیا۔ یہ ناول شائع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔
یہ مختصر ناول کل 104صفحات پر مشتمل ہے اور ”کتب خانہ” کے زیر اہتمام دیدہ زیب شکل میں شائع ہوا ہے۔
یہ ناول کرونا وائرس (Covid-19)کے تناظر میں ایک لڑکی ”لاریب” کے باطنی سفر کی کہانی ہے ۔ مصنّفہ نے بڑی مہارت سے کہانی کو سمیٹا ہے۔ کردار نگاری، منظر نگاری ، تمثیلی عناصر کو بھی بخوبی نبھایا ہے۔
 دور حاضر میں وقت کی قلت کے پیش نظر یہ ناول مختصر ہے ، اور آپ باآسانی ایک نشست میں پڑھ سکتے ہیں۔ ناول کے دیباچہ میں مصفنہ لکھتی ہیں:   ”کووڈ 19 نے جہاں ساری انسانیت کو چار دیواری میں قید کر کے خدائے بزرگ و برتر کی طاقت کے سامنے ابن آدم کو بے بس کیا تو وہاں اللہ پاک کی شان رحمت کا نزول انسانی دل و دماغ پر جاری رہا۔۔۔۔۔
 ناول ”پاکباز” بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ کووڈ ١٩ کے خوف اور وحشت کے نتیجے میں ایک انسان کے سفر کی ایسی داستان ہے جس کی جستجو مالک کائنات ہے۔ یہ ناول جہاں انسان کی روحانی زندگی کو جلا بخشے گا وہاں معاشرے کی اخلاقی پستی کی طرف بھی توجہ مبذول کروائے گا۔”
ناول میں آپ جن کرداروں سے ملیں گے ان کے نام درج ذیل ہیں۔ لاریب لغاری،اسفند لغاری،میزاب،شاہ پوش،شاہ زر،آئیزہ،مسز خان،سعیدہ بیگم،اربازہمدانی،عبید اللہ ہمدانی،زبیدہ ہمدانی ،حسن لغاری،شبنم آراء ،ماہ رخ،عاصم،ایاز اسلم،فہمیدہ، علیشاہ، آرینہ،عافین ایاز، ڈاکٹر فوزیہ ، ڈاکٹر زبیر، سلیم ڈار، سلیم، ندا ، شازیہ، علیزے، حرا، سجاد حیدر، شمیم بیگم، حبیب الرحمن، عذرابیگم، اسد اللہ ۔
   دور حاضر میں انٹرنیٹ کے استعمال نے عوام کو کتاب سے دور کر دیا ہے۔ بعض لوگ پی ڈی ایف کتب کی تلاش میں ہوتے ہیں اورپی ڈی ایف کتب کا ہی مطالعہ کرتے ہیں۔ مگر جو کتاب ہاتھ میں اٹھا کر اس کا لمس محسوس کر کے پڑھنے کا احساس ہے ، وہ پی ڈی ایف سے پڑھنے میں کہاں؟
 ناول میں مصنفہ نے کتاب کی اہمیت کو جاگر کرنے کے لیے بھی اپنے کرداروں میں مکالمہ نگاری سے کام لیا ہے ۔اور مختلف ادباء کے اقوال کو بھی شامل کیا ہے۔
 مائدہ شفیق نے چوں کہ انگریزی زبان میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے ، اس لیے ان کے ہاں انگریزی کوٹیشنز زیادہ ملتی ہیں۔ مائدہ شفیق نے مختصر اور جامع مکالمہ نگاری سے ناول کے حسن کو دوبالا کیا ہے۔
شاہ زر جب موبائل استعمال کر رہا ہوتا ہے تو لاریب اس کے ہاتھ سے موبائل چھین کر کہتی ہے:   ”ہر وقت  FB (فیس بک)اور یوٹیوب  پر لگے رہتے ہو ، کوئی کتاب پڑھ لیا کرو۔ دوسرے لوگوں کے تجربات، تجزیات اور مشاہدات ہمارے کام آتے ہیں ، ہماری زندگی کو آسان کر دیتے ہیں”۔  
اتنے میں اسفند لغاری (بچوں کے والد )گھر پہنچ جاتے ہیں اور ان کی گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ اسفند لغاری لاریب کی بات کی تائید کرتے ہوئے شاہ زرکو کہتے ہیں ”بیٹا کتابیں انسان کو عمر سے زیادہ باشعور کر دیتی ہیں۔”
    کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اورسپر پاورز کو بھی بے بس کر دیا۔ مصنفہ نے کہانی میں کرونا وائرس کے واقع کو پیش کرتے ہوئے ناول میں تاریخی پہلو کو محفوظ کیا ہے۔اس واقع سے لاریب کی اندرونی کیفیات تبدیل ہوتی ہیں۔ پوری دنیا کرونا کے خوف و دہشت میں مبتلا ہے اور لاریب کی کیفیت کچھ یوں ہے:
   ”ایسا وائرس کی جس نے ماں باپ کو اولاد سے، شوہر کو بیوی سے، بہنوں کو بھائیوں سے جدا کر ڈالا ہے۔ خوف کی سرد لہر اس کے جسم میں دوڑی اور اس سے پکارا ”یا اللہ معانی”۔
اور یہی سے لاریب کے اندر کی دنیا تبدیل ہوتی ہے۔کہانی کے بیشتر کردار تصوف سے جڑے ہوئے ہیں جس سے کہانی کار کے ذوق سلیم کا پتہ دیتے ہیں۔
 کہانی میں خوف خدا ، مکافات عمل ، صبر پر اجر اور انسانیت کے بے لوث خدمت کو بڑی مہارت سے اجاگر کیا ہے۔ ناول میں مختلف واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ جن کو مہارت کے ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے ۔اور مائدہ شفیق نے واقعات کی لڑی کو بخوبی پرویا ہے۔ ہر واقع دوسرے واقع سے مربوط ہے اور پلاٹ میں جھول نہیں ہے۔
   ناول میں منظر نگاری بھی بخوبی کی گئی ہے۔ ناول نگار چوں کہ کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنی دھرتی کا ذکر نہ کریں اور اس کہانی میں کشمیرکی خوب صورتی کا ذکر نہ آئے ایسا کیسے ممکن ہے۔ کہانی کا مرکز تو اسلام آباد (پاکستان) ہے مگر جب لاریب نیلم کے پسماندہ علاقے میں بچوں کی مفت تعلیم کے لیے کام کرنے ڈاکٹر فوزیہ کے ہمراہ آتی ہے تو کوہالہ سے آگے کا منظر ناول نگار اس طرح پیش کرتی ہیں۔
   ”کوہالہ کا پل پار کیا تو لاریب کو لگا کہ وہ کسی خواب کی وادی میں ہے۔ بل کھاتا ہوا دریا سٹرک کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ سبز گھنے درختوں نے پہاڑوں کو چھپایا ہوا تھا ۔ دو ر دور تک پہاڑیاں برف سے ڈھکی تھیں اور آسمان پر پھیلی نیلاہٹ جو سورج کی سنہری کرنوں کے سنگ رقص کر رہی تھی۔ سارا منظر عجیب جادوئی سکوت پید ا کر رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوائوں میں چنار کی خوشبو آنکھیں بند رکھنے کی صد ا دے رہی تھی۔ ”
   اس کے علاوہ ناول میں قرآنی آیات کا ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔ انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنے اور حقوق العباد ادا کرنے کی ترجیح دی گئی ہے۔دربار حضرت سائیں سہیلی سرکار کا ذکر بھی بڑی محبت سے کیا ہے اور لاریب نے  دکھایا ہے کہ لاریب کو سائیں سہیلی سرکار دربار سے گہرا لگاو ہو جاتا ہے ۔جہاں سے اس کی کہانی میں خوب صورت موڑ آتا ہے۔
مجموعی طورپر بہترین ناول ہے اور نئی نسل کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔  ہو سکتا ہے کسی کے دل کا حال بدل جائے ۔
 مصنفہ کے کرداروں کو اپنے اردگرد سے ہی اٹھایا ہے ۔ مطالعہ کے دوران قاری خود کو کرداروں کے درمیان محسوس کرتا ہے ، اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا بلکہ ناول کو ایک ہی نشست میں تمام کر لیتا ہے۔سارے کردار ہی اہم ہیں مگر لاریب اورسجاد حیدر کا کردار اہم ہے۔ سجاد حیدر کہانی کے آخر پر آتا ہے مگر جان دار اور پراسرار  کردار اداکرتا ہے۔
   ”پاکباز” سبق آموز اور تصوف کی راہ پر گامزن کرنے کا جذبہ پیدا کرنے والی کہانی ہے۔ ناول میں اشعار کا استعمال بھی کیا گیا ہے یعنی مصنفہ شعری ذوق بھی رکھتی ہیں۔
ناول سے مزید اقتباسات کہانی کا مزا خراب کریں گے ضروری ہے کہ آپ ناول پڑھیں اور اس کہانی سے سبق حاصل کریں۔ یہ ناول آزادکشمیر کی ناول نگاری میں ایک خوب صورت اضافہ ہے ۔مائدہ شفیق کو اس ناول کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں وہ ناول نگاری میں ایک اہم مقام حاصل کریں گی۔
   مائدہ شفیق نے گریجویشن تک کی تعلیم عباس پور سے ہی حاصل کی ۔ ایم اے انگلش لٹریچر نمل یونی ورسٹی سے جب کہ ایم فل( انگریزی )کی ڈگری وویمن یونی ورسٹی باغ سے ٢٠١٧ء میں حاصل کی۔ اردو اور انگریزی گرائمر کے حوالے سے بھی کام کر چکی ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں